دادی کی نصیحت
دادی کی نصیحت آج کچھ معمول سے زیادہ محلے میں شور تھا سارے محلے کے بچے ، بوڑھے سبھی کے سب لوگ شبنم دادی کے گھر کے سامنے جمع ہوئیں تھیں اور نئے سال کی مبارکباد ایک دوسرے کو پیش کررہے تھے محلے کی اس شور سے شبنم دادی کے سر میں درد بڑھ رہا تھا وہ اپنی گھر کی لون سے اپنے کمرے کے اندر چلی گئی اور اپنی بیٹی کو آواز لگائی۔ کائنات حامد کو میرے پاس لے آؤ اور ہاں وہ صدر زمان کا بیٹا طلحہ بھی ساتھ لے آؤ۔ کائنات: آگئ اماں بس دو منٹ میں۔ دادی: توڑا جلدی کر. کائنات: ہاں یہ لو آپ کے بچے. دادی: کائنات آج تو بچے بہت اچھے لگ رہے ہیں ان کا نظر اتار دو کائنات. اسی اثنا میں شبنم دادی کا بڑا نواسہ قیصر بھی سکول سے آکر دادی کے کمرے میں داخل ہوا۔ بچوں آج نئے سال کا پہلا دن ہے۔ شبنم دادی نے ابھی بات مکمل نہیں کی تھی کہ قیصر درمیان میں بولا۔ ایک تو دادی آپ روزانہ بچوں کو قصوں اور کہانیوں کا قیدی بنا کر ان کا وقت برباد کر رہی ہوں۔ شبنم دادی کچھ بڑبڑائ اور پھر بولی۔ دادی: اک تو تم روزانہ اپنا اک نیا چہرہ دیکھا رہے ہوں۔اور ہاں جلدی جاؤ کھانا ٹھنڈا ہورہا ہیں اور جلدی آنا. ہاں دادی ہٹا تا ہوں اپ...