Posts

               آج کا نوجوان اور ان کا مستقبل                       تحریر حامد علی جعفری  نوجوان کسی بھی ملک اور معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ اسیٹ ہوتا ہے جو قوموں کی تقدیر کو جگاتا ہے۔ جس طرح اقبال نے اپنے شاعری میں نوجوانوں کو اپنی منزلیں زمین کی پستیوں سے باہر اسمان کی بلندیوں کو دیکھتے ہوئے سوچنے کا درس دیا ہے۔  اگر نوجوانوں کو صحیح سمت ملا یا ان کے لئے اسے مواقع پیدا کئے گئے جس سے ان کے  اڑنے کے پر نہیں کاٹے جاتے تو پھر یہ نوجوان قوم اور ملت کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کا نوجوان ملک چھوڑ کر باہر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی وجوہات جو بھی ہو لیکن کیا ہمارے حکمرانوں نے اس پر کبھی توجہ کیا ہے کہ یہ کیوں جارہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے حکومت وقت کے لئے۔ غریبوں کا خون چوس کر محلات میں رہنے والے حکمران اس درد سے بے خبر اور ناواقف ہیں کہ جب گھر کا بڑا بیٹا بے روزگار ہو اور بے رحم تقدیر ان کا ساتھ نہ دے رہا ہو ، مہنگائی کے تلوار سے...
 انسانی شناخت پر سوالیہ نشان آج بھی؟؟ معاشرہ،ثقافت اور انسانی طرز عمل تحریر حامد علی جعفری انسانی طرز عمل یعنی انسان اپنے زندگی کے معاملات معاشرے کے ساتھ میل جول ثقافت اور معاشرے کے بنائے گئے سانچے میں ڈھال کر اپنا طرز عمل وجود میں لاتا ہے۔ جب بھی انسانی طرز عمل کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے تو بہت سے نکات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے ۔ لیکن جسنکات پر گرا ڈال دیا جاتا ہے ان میں معاشرہ ، ثقافت روایات اور انسانی طرز عمل شامل ہے اگر ہم اسکو آسان الفاظ میں بیان کریں تو انسان اپنے کردار کو تخلیق کرنے کے لیے معاشرے اور روایات کا محتاج رہتا ہے۔ اگر ہم معاشرے کے ایک فرد کے طور پر اپنے کردار یا رہن سہن کے طور طریقے کو بدلنا بھی چاہے تو پرانے روایات کے دائرے کو عبور نہیں کرسکتے اور اسی ایک دائرے کے قیدی بن جاتے ہیں۔ میں یہاں پر ایک مثال دیکر اپنی بات کو مزید واضح کرنا چاہتا ہوں۔ ہم جس معاشرے میں آنکھ کھولتے ہیں یہاں اگر ایک لڑکا لڑکی کے لیے رشتہ بھیجتا ہے۔ اول تو لڑکے کے والدین اس رشتہ سے مطمئن ہونے چاہئیں، رشتہ داروں کی بھی تسلی ہونی چاہئے۔ اگر لڑکے والے مطمئن نہ ہوئے تو کہیں گے کہ یہ لڑکی رنگ کی...

کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے ؟؟

 کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے ؟؟    منٹو صاحب کا مشہور زمانہ جملہ آپ لوگوں نے پڑھا ہوگا یا سنا ضرور ہوگا "کون کافر کون مسلمان، کون جنتی کون جہنمی کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے"۔ منٹو صاحب کا دہائیوں پہلے لکھا گیا جملہ آج بھی ہمارے معاشرے سے تجدید عہد کا تقاضا کررہی ہے۔ ہماری معاشرتی روش آج بھی اس قید سے آزاد نہیں جس کا تذکرہ منٹو صاحب نے دہائیوں پہلے کیا تھا۔ اگر اس وقت معاشرہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تقسیم کیا گیا تھا تو اج اکیسویں صدی میں بھی انسانوں کے بنائے گئے ذات پات اور نسلی تعصب کے بوت کی پیروی کی جارہی ہے۔ جب انسان جس گھر میں آنکھ کھولتا ہے تو معاشرے کے بنائے گئے انسانیت سے بڑا ذات پات کے زنجیروں سے باندھ دیا جاتا ہیں۔ جو جتنا طاقتور ہوتا ہے اتنا ہی وہ معاشرے کے بنائے گئے تصوراتی ہتھکڑیوں کے گرفت سے آزاد ہوتا ہے اور جو بندہ ایسے ذات یا خاندان سے ہو جس پر معاشرے نے کمزور ہونے کا دھبہ لگایا ہو تو وہ نام نہاد برے خاندان کے قید میں ڈال دیا جاتا ہے۔ میں یہاں پر ایک مثال سے واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص کسی ہنرمند پیشہ ور خاندان سے تعلق ر...

نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی ضرورت کیوں؟؟

جب بھی ایمپاورمنٹ کا لفظ ہمارے سامنے سے گزرتا ہے تو ہمارے ذہنوں میں ایک نقشہ بنتا ہے جس میں کسی بھی شخص کا قابض ہونا ہے یا یہ ایک ویلن کی تصویر کشی کرتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے۔ لیکن اگر ہم         ایمپاورمنٹ کو گوگل میں یا دیگر دوسری ڈکشنریوں میں دیکتھے ہیں تو اسکا مطلب کچھ یو نکلتا ہے" کہ کسی بھی گروہ یا فرد کو صلاحیتوں، وسائل اور مواقع سے لیس کرنا تاکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرسکیں اور اپنے مقاصد حاصل کرسکیں"۔ ہمارے ذہنوں میں جو نقشہ بنا ہے اور    یہاں ڈیکشنری جو بتاتی ہے اس میں کتنا بڑا تضاد موجود ہے۔ یہ فرق اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے کو   ذہنی طور پر کتنا پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔                         ۔                      اب ہم آتے ہیں کہ نوجوانوں کی ایمپاورمنٹ کا کیا مطلب ہے۔  اگر ہم اس طرح اس کی تعریف کرلیں کہ نوجوانوں کو صلاحیتوں ، مواقعوں اور وسائل سے لیس کرنا تاکہ وہ اپنے مست...

رسہ کشی

 رسہ کشی                          تحریر حامد علی جعفری                       100 لفظوں کی عوامی کہانی  افس جاتے ہوئے تنویر بولے اج کل بجلی اور گرمی ایک پیچ پر ہے میں نے حیرانی میں دریافت کیا " ایک پیچ " کیا مطلب بجائے اس کے کہ تنویر واضح کرتے انہوں نے مزید الجھن میں ڈال دیا بجلی کا بل اور گھروں کے کرائے بھی پہلے سے میدان میں موجود ہے تنویر کے باتوں سے میری الجھن مزید بڑھتی گئیں  پٹرول اور ڈیزل کے قیمتوں نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے تعجب ہونے پر پوچھا کھیل چل رہا ہے کیا؟؟ تنویر نے کہا میدان اکھاڑا بن چکا ہے  ایک ادمی کو بے یاروں مددگاراور بےسہارا چھوڑا ہے  میں بھانپ چکا تھا اور کہا کوئی رسہ کشہ چل رہی ہے؟؟ تنویر نے میرے الجھن کچھ کم کیا اور کہا عوام اور مہنگائی کی بیچ #inflation  #Pakistan

تشنگی 100 لفظوں کی کہانی

 تشنگی                                                      مختصر کہانی                     تحریر حامد علی جعفری  صبح انکھ کھلتے ہی نظر ٹی وی پر پڑی  الیکشن کے دن تھے محرمیوں کو ختم کرنے کی وعدوں کی برسات تھی اچانک بھائی احمد کی طبیعت بگڑ گئی۔۔۔۔ ہسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے لینے سے انکار کردیا میں نے سوال کیا کہ حضور والا انکار کی وجہ؟؟ انتظامیہ نے یہ کہ کر جواب دیا۔۔۔کہ سہولیات کا فقدان ہے  میں نے جواب دینے کی جسارت کی ۔۔۔ کل ہی تو بجٹ منظور ہوا ہے احمد کو ریفر کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے ایک ہی نسخہ دیا کہ ہم دعا گو ہے ہسپتال سے روانگی کے بعد چچا اشتیاق سے کہا کہ گاڑی دوڑائیں  چچا اشتیاق ؛ انجن میں کام کئے دو دن ہوگئے ہیں روڈ کی حالت دیکھوں؟؟ میں نے پھر وہی جملہ دہرایا کہ کل ہی تو بجٹ منظور ہوا ہے چچا اشتیاق نے لب کشائی کی،کہ وہ تو تشنگی بجانے کے لئے ہے ہمارے لئے توڑی ہے حیرانی کے ع...

"انتہا پسندی کے نشے میں لت معاشرہ"

Image
معاشرے میں جب موسیقی کے الات ہتھیار سے ذیادہ تباہی کے الات تصور کئے جائیں اور یونیورسٹی سے طالب علم کو ا رات کی تاریکی میں ذہنی ٹارچر کر کے نکال لیا جائے کہ ان کے ساتھ بندوق نہیں بلکہ رباب ہوتا ہے اور ان پر پابندی عائد کی جائے، تو ان سارے اقدامات سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارا معاشرہ  کتنا ذہنی طور پر پستی کا شکار ہوچکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہبی جنونیت کی لگی آگ میں دین کے ٹھیکیدار جلتی پر تیل کا کام کرہے ہیں۔ پولارائزیڈ معاشرہ جو قدم قدم پہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جو مختلف حصوں میں منقسم ہوگئی ہے لسانی، جنسی اور نسلی بنیادوں پر نفرت کے اس کینسر ذدہ بیمار معاشرے کو اب مرہم پٹی نہیں بلکہ بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے کئی ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے ہیں چاہے وہ مشال کا قتل ہو یونیورسٹی میں یا سری لنکن انجینئر کا مذہبی شدت پسند جتے کے ہاتھوں فیکٹری میں موت ہو یا پھر سوات مدین میں مبینہ توہین قران مجید کے الزام میں  لاش کو نذر آتش کرنا ہو۔ یہ سارے واقعات ایک ہی سوال اپنے پیچھے چوڑ کر ہمارے انکھوں سے اجل جاتی ہیں کہ کیا ہمیں یہ سرٹیفیکیٹ بانٹنے کا اختیار ہے کہ ہم کسی کو بھی...