Posts

Showing posts from May, 2026
               آج کا نوجوان اور ان کا مستقبل                       تحریر حامد علی جعفری  نوجوان کسی بھی ملک اور معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ اسیٹ ہوتا ہے جو قوموں کی تقدیر کو جگاتا ہے۔ جس طرح اقبال نے اپنے شاعری میں نوجوانوں کو اپنی منزلیں زمین کی پستیوں سے باہر اسمان کی بلندیوں کو دیکھتے ہوئے سوچنے کا درس دیا ہے۔  اگر نوجوانوں کو صحیح سمت ملا یا ان کے لئے اسے مواقع پیدا کئے گئے جس سے ان کے  اڑنے کے پر نہیں کاٹے جاتے تو پھر یہ نوجوان قوم اور ملت کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کا نوجوان ملک چھوڑ کر باہر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی وجوہات جو بھی ہو لیکن کیا ہمارے حکمرانوں نے اس پر کبھی توجہ کیا ہے کہ یہ کیوں جارہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے حکومت وقت کے لئے۔ غریبوں کا خون چوس کر محلات میں رہنے والے حکمران اس درد سے بے خبر اور ناواقف ہیں کہ جب گھر کا بڑا بیٹا بے روزگار ہو اور بے رحم تقدیر ان کا ساتھ نہ دے رہا ہو ، مہنگائی کے تلوار سے...
 انسانی شناخت پر سوالیہ نشان آج بھی؟؟ معاشرہ،ثقافت اور انسانی طرز عمل تحریر حامد علی جعفری انسانی طرز عمل یعنی انسان اپنے زندگی کے معاملات معاشرے کے ساتھ میل جول ثقافت اور معاشرے کے بنائے گئے سانچے میں ڈھال کر اپنا طرز عمل وجود میں لاتا ہے۔ جب بھی انسانی طرز عمل کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے تو بہت سے نکات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے ۔ لیکن جسنکات پر گرا ڈال دیا جاتا ہے ان میں معاشرہ ، ثقافت روایات اور انسانی طرز عمل شامل ہے اگر ہم اسکو آسان الفاظ میں بیان کریں تو انسان اپنے کردار کو تخلیق کرنے کے لیے معاشرے اور روایات کا محتاج رہتا ہے۔ اگر ہم معاشرے کے ایک فرد کے طور پر اپنے کردار یا رہن سہن کے طور طریقے کو بدلنا بھی چاہے تو پرانے روایات کے دائرے کو عبور نہیں کرسکتے اور اسی ایک دائرے کے قیدی بن جاتے ہیں۔ میں یہاں پر ایک مثال دیکر اپنی بات کو مزید واضح کرنا چاہتا ہوں۔ ہم جس معاشرے میں آنکھ کھولتے ہیں یہاں اگر ایک لڑکا لڑکی کے لیے رشتہ بھیجتا ہے۔ اول تو لڑکے کے والدین اس رشتہ سے مطمئن ہونے چاہئیں، رشتہ داروں کی بھی تسلی ہونی چاہئے۔ اگر لڑکے والے مطمئن نہ ہوئے تو کہیں گے کہ یہ لڑکی رنگ کی...