انسانی شناخت پر سوالیہ نشان آج بھی؟؟

معاشرہ،ثقافت اور انسانی طرز عمل

تحریر حامد علی جعفری

انسانی طرز عمل یعنی انسان اپنے زندگی کے معاملات معاشرے کے ساتھ میل جول ثقافت اور معاشرے کے بنائے گئے سانچے میں ڈھال کر اپنا طرز عمل وجود میں لاتا ہے۔ جب بھی انسانی طرز عمل کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے تو بہت سے نکات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے ۔ لیکن جسنکات پر گرا ڈال دیا جاتا ہے ان میں معاشرہ ، ثقافت روایات اور انسانی طرز عمل شامل ہے اگر ہم اسکو آسان الفاظ میں بیان کریں تو انسان اپنے کردار کو تخلیق کرنے کے لیے معاشرے اور روایات کا محتاج رہتا ہے۔


اگر ہم معاشرے کے ایک فرد کے طور پر اپنے کردار یا رہن سہن کے طور طریقے کو بدلنا بھی چاہے تو پرانے روایات کے دائرے کو عبور نہیں کرسکتے اور اسی ایک دائرے کے قیدی بن جاتے ہیں۔ میں یہاں پر ایک مثال دیکر اپنی بات کو مزید واضح کرنا چاہتا ہوں۔

ہم جس معاشرے میں آنکھ کھولتے ہیں یہاں اگر ایک لڑکا لڑکی کے لیے رشتہ بھیجتا ہے۔ اول تو لڑکے کے والدین اس رشتہ سے مطمئن ہونے چاہئیں، رشتہ داروں کی بھی تسلی ہونی چاہئے۔ اگر لڑکے والے مطمئن نہ ہوئے تو کہیں گے کہ یہ لڑکی رنگ کی سانولی ہے ،ناک میں مسئلہ ہے۔ اس طرح کے درجن نقائص نکال کر لڑکی کو اپنی گھر کی بہوبنانے سے انکار کردیںگے۔


اس ساری کہانی کا نتیجہ یہ آشکار ہو جاتا ہے کہ معاشرے میں کمزور مزید کمزور ہو جاتا ہے اور طاقتور چونکہ فیصلہ ساز بھی ہے مزید طاقتور ہو جاتا ہے۔ 

تو اس کہانی میں معاشرہ اور روایات بھرپور کردار ادا کرتےایک ساتھ نظر آرہے ہیں ۔ اگر لڑکا والدین کے مرضی کے بر خلاف "نا" کردے تو یہاں پر سماج، ثقافت و روایات ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے لڑکے کے سامنے دیوار بنتی نظر آئیں گے۔ یہی ورد دہرائے گے کہ نہ تو اس طرح سے ہمارے سماج میں کسی اور نے کیا ہے اور نہ ہی ہمارے ثقافت اورروایات میں اس کی کوئی جگہ بنتی ہے۔ اس مثال کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ شادی نہ صرف انسان کی بنیادی حق ہے بلکہ انسانی ضرورت ہے۔ جس پر معاشرے نے قبضہ جمایا ہے کہ کوئی بھی شخص سماج سے متاثر ہوکر اپنا فیصلہ کرینگے نہ کہ خود اپنی پہچان پر۔ یہ فیصلہ چاہے مال و دولت سے متاثر ہوکر اپنانا پڑیں یا ذات پات بیچ میں لا کر اپنا فیصلہ مسلط کردیں۔ 


کارل مارکس کہتے ہیں کہ انسان کا شعور اس کے وجود کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ انسان کی سماجی وجود انسان کے شعور کا فیصلہ کرتا ہے۔

اگر ہم اس تیکونی ڈھانچے کا با غور مطالعہ کر لیں تو اس میں روایات یعنی معاشرے کے بنائے ہوئے قوانین اور سماج ہمیشہ طاقتور دیکھائی دیتا ہے۔ یہی دو چیزیں انسان کی بنیادی ضروریات سے لیکر معاشرے میں اٹھنے بیٹھنے تک انسانی طرز عمل کو جنم دیتی ہے۔ یہ مشق جو من حیث القوم ہم ہر روز دہراتے ہیں تو ہم لا شعوری طور پر نہ چاہتے ہوئے بھی انہی دو چیزوں کے تابع بن جاتے ہے۔ 


سماج نہ صرف انسانی طرز عمل پر مختلف قوانین لاگو کر کے روایات کے جال میں پھنسا لیتا ہے۔ بلکہ معاشرہ ہر ایک فرد کے لیے الگ الگ اس کے سماجی وجود کے مطابق کردار متعین کرتا ہے۔ اگر قدرت نے کسی انسان کو مال و دولت کے زور سے آراستہ کیا ہے تو سماج میں وہ ایک الگ پہچان رکھتا ہے اور اگر کسی شخص کے ساتھ مقدر ساتھ نہیں دے رہا غریب ہے تو سماج اسکی پہچان سماج ایک الگ طریقے سے تراشتہ ہے یعنی آج بھی ہماری اپنی پہچان نہیں ہے۔ انسان کی اپنی شناخت پرسوالیہ نشان کب تک رہےگی؟؟ یہی وہ سوال ہے جس کوشاید آنے والی نسلیں بھی کریدنے کی کوشش کریں گی۔


Comments

Popular posts from this blog

"انتہا پسندی کے نشے میں لت معاشرہ"

کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے ؟؟