آج کا نوجوان اور ان کا مستقبل

                      تحریر حامد علی جعفری 


نوجوان کسی بھی ملک اور معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ اسیٹ ہوتا ہے جو قوموں کی تقدیر کو جگاتا ہے۔ جس طرح اقبال نے اپنے شاعری میں نوجوانوں کو اپنی منزلیں زمین کی پستیوں سے باہر اسمان کی بلندیوں کو دیکھتے ہوئے سوچنے کا درس دیا ہے۔  اگر نوجوانوں کو صحیح سمت ملا یا ان کے لئے اسے مواقع پیدا کئے گئے جس سے ان کے  اڑنے کے پر نہیں کاٹے جاتے تو پھر یہ نوجوان قوم اور ملت کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔


لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کا نوجوان ملک چھوڑ کر باہر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی وجوہات جو بھی ہو لیکن کیا ہمارے حکمرانوں نے اس پر کبھی توجہ کیا ہے کہ یہ کیوں جارہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے حکومت وقت کے لئے۔ غریبوں کا خون چوس کر محلات میں رہنے والے حکمران اس درد سے بے خبر اور ناواقف ہیں کہ جب گھر کا بڑا بیٹا بے روزگار ہو اور بے رحم تقدیر ان کا ساتھ نہ دے رہا ہو ، مہنگائی کے تلوار سے ہر لمحے قتل ہو رہا ہوں تو وہ ملک نہ چھوڑیں تو اور کیا کریں ؟؟میں ان کو ڈیفینڈ نہیں کررہا کہ یہ ملک چھوڑیں کسی دوسرے ملک کے لئے کام کریں ،لیکن ان کے پاس  اور کوئی دوسرا راستہ کیا ہے؟؟ گزشتہ مہینے پاکستان کے اخبارات کی شہ سرخیوں کی خبر یہ بنی کہ بہتر مسقبل اور روزگار کی خاطر سینکڑوں نوجوانوں نے جانیں ضائع کیں۔


 گزشتہ سال کی ایک فیگر میں آپ لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ کتنے نوجوان روزگار کے لئے باہر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بیورو اف امیگرنٹ اینڈ اوورسیز اپلائمنٹ کی ہے ان اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال 7لاکھ 27 ہزار 3 سو 81 سکیلڈ لوگ چلے گئے۔ اور ہزاروں ایسے ہیں جو بہتر مستقبل کا خواب لیکر یورپ کی طرف غیر قانونی طور پر نکلتے ہیں۔ چند  مہینے پہلے کئی پاکستانیوں کی لاشیں لائیں گئیں یہ لاشیں پارا چنار سے تعلق رکھنے والے محمد ثقلین ہو یا منڈی بہاوالدین سے تعلق رکھنے والے سمیر علی۔ یہ لاشیں صرف ان نوجوانوں کی لاشیں نہیں بلکہ یہ لاشیں ان حکمرانوں کے ضمیروں کی ہیں جو اے سی کے محلات میں بیٹھ کر ان کے پاس غریب عوام کو روزگار دلوانے کے لیے نہ کوئی پالیسی بنانے کے لیے وقت ہے اور نہ ہی ان کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوئی منصوبہ بندی ۔اور یہ اشرافیہ اپنے مراعات بڑھانے کے لیے ہر آئے روز اسمبلیوں سے بلیں منظور کروارہے ہیں۔ ان اقدامات سے اب اپ لوگ ان حکمرانوں کی ترجیحات کا  بخوبی اندازہ لگا سکتے ہے۔

اپ لوگوں کے ذہنوں میں ایک ہی سوال گونج رہا ہوگا کہ اس کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے ۔ اب ہم چند تجاویز ڈسکس کریں گے جس پر اگر حکمران چاہے تو عمل کرسکتیں ہیں اور 

مستقبل کے لئے ایک فریم ورک بناسکتے ہیں۔


                                             :ڈیجیٹلائزیشن کو اپنانا 

آج کے دور کو ڈیجیٹل دور کہا جاتا ہے اے آئی کے آنے کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا ہوچکا ہے اس دور میں دنیا ایک نئے محاذ پر جنگ لڑنے کے لیے آمنے سامنے ہیں۔ دنیا کے ساتھ اس میدان میں مقابلے کے لیے واحد ہتھیار ڈیجیٹلائزیشن کو اپنا کر آئی ٹی میں آگے آنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کے کان پر اس کے حوالے سے جو تک نہیں رینگتی۔ اور ہم اس تحریرکے زریعے سے ان فلاحی اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جواس جدید جنگ میں دستہ اول کا کردار ادا کررہے ہیں اور لاکھوں نوجوانوں کو آئی ٹی کا مفت تعلیم فراہم کرہے ہیں لیکن صرف یہ ان کا کام نہیں پالیسی میکر کی کچھ زمہ داریاں بنتی ہیں کہ اس کے حوالے سے کام پر توجہ مبزول کریں۔


                                   ،نوجوانوں کے ساتھ بات چیت 

پاکستان کی آدھی سے زیادہ ابادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ نوجوان اس ملک کا اور معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہے۔ انکے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنا قوم کو ایک نئی سمت دیتی ہے لیکن  اگر ہم وطن عزیز کی حالت دیکھتے ہیں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہماری ریاست اور نوجوانوں کی بیج کتنی بڑی خلیج موجود ہے جو کسی بھی قوم کو راستے سے ہٹانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ میں یہاں اس بات پر زور دوگا کہ خدارا نغمے بنا کر آپ نوجوانوں کو اپنا نہیں بنا سکتے ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کو سن کر ان سے 

وطن عزیز کے استحکام کے لیے کارآمد شہری بناسکتے ہیں۔


 3 :  نوجوانوں کو ایمپاور کریں،   

 ایمپاور کا مطلب یہاں پر یہ ہے کہ ریاست ان کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات اٹھائے نہ کہ حکمران اپنے ترجیحات کے لئے راستے بنائے۔  جب ریاست نوجوانوں کو دیکھ کر اقدامات اٹھاتے ہیں تو پھر نتیجہ آپ کے سامنے ہمارے پڑوسی ہندوستان کی آئی ٹی سیکٹر کی شکل میں دنیا کے سامنے آشکار ہوجاتا ہے آج ہمارے پڑوسی ہم سے بہت اگے نکل چکے ہیں اسکی ایک اہم وجہ ریاست نے نوجوانوں کے لئے اقدامات کئے اور پالیسیاں بنائیں اور ہماری ریاست نے اپنی ترجیحات کی بنیاد پر ۔ بس ہمیں اپنے نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی اشد ضرورت ہے اور یہی بات ریاست کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

"انتہا پسندی کے نشے میں لت معاشرہ"

کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے ؟؟