"انتہا پسندی کے نشے میں لت معاشرہ"


معاشرے میں جب موسیقی کے الات ہتھیار سے ذیادہ تباہی کے الات تصور کئے جائیں اور یونیورسٹی سے طالب علم کو ا رات کی تاریکی میں ذہنی ٹارچر کر کے نکال لیا جائے کہ ان کے ساتھ بندوق نہیں بلکہ رباب ہوتا ہے اور ان پر پابندی عائد کی جائے، تو ان سارے اقدامات سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارا معاشرہ  کتنا ذہنی طور پر پستی کا شکار ہوچکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہبی جنونیت کی لگی آگ میں دین کے ٹھیکیدار جلتی پر تیل کا کام کرہے ہیں۔ پولارائزیڈ معاشرہ جو قدم قدم پہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جو مختلف حصوں میں منقسم ہوگئی ہے لسانی، جنسی اور نسلی بنیادوں پر نفرت کے اس کینسر ذدہ بیمار معاشرے کو اب مرہم پٹی نہیں بلکہ بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے کئی ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے ہیں چاہے وہ مشال کا قتل ہو یونیورسٹی میں یا سری لنکن انجینئر کا مذہبی شدت پسند جتے کے ہاتھوں فیکٹری میں موت ہو یا پھر سوات مدین میں مبینہ توہین قران مجید کے الزام میں  لاش کو نذر آتش کرنا ہو۔ یہ سارے واقعات ایک ہی سوال اپنے پیچھے چوڑ کر ہمارے انکھوں سے اجل جاتی ہیں کہ کیا ہمیں یہ سرٹیفیکیٹ بانٹنے کا اختیار ہے کہ ہم کسی کو بھی کافر بنادیں؟؟ اور یہ واقعات دو اور چیزوں کی طرف بھی اشارہ کررہی ہے کہ کہ یہاں ریاست کی رٹ ختم ہوچکی ہے۔کہ وہ اپنے تحویل میں کسی بھی شخص کو بچانے میں ناکام ہے۔دوسری بات یہ کہ پاکستان میں موب یعنی ایک جتے کی راج ہے جو ریاست سے بہت طاقتور ہے ۔



اس سوال کا جواب جب ہم ٹٹورنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک اہم بات سامنے آجاتی ہے۔ کہ ہم بطور معاشرہ ہر چیز کو مذہب کے زاویے سے دیکھتے ہے اور پھر اسے اپنی عقل کل کی عدالت میں پیش کرکے فیصلہ سنا دیتے ہے۔ یعنی خود جج بن کے قصہ منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اہم بات یہ بھی ہے کہ توہین کا تعین کون کریگا کیا ریاست کریگی یا ایک جتا۔ کیا عوام کا اداروں سے اعتماد اٹھ چکا ہے جو قانون اور آئین کو اپنے ہاتھ میں لینے سے نہیں گھبراتے ۔اصل بات تو یہ ہے کہ ریاست اپنا رٹ منوانے میں ناکام ہوچکا ہے ،اور دوسری بات یہ کہ یہ جنونیت نہ صرف معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرہی ہے بلکہ انسانیت کے نام پر رہی سہی رواداری بھی اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں ناکام ہورہی ہے۔


اب ہمارے ذہنوں میں ایک ہی سوال پیدا ہو رہا ہے کہ ہم اس مذہبی جنونیت اور نفرت کے کینسر میں مبتلا معاشرے کی اس بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنے میں انفرادی طور پر کیا کردار ادا کرسکتے ہے۔ جی ہاں ظاہر ہے اتنے بڑے پیمانے پر معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے کہ ہم ایک دوسے کی بات کو سننے کے لئے تیار نہیں۔ تو ایسے میں انفرادی طور پر اج سے ہی کینسر کا اسی ٹریٹمنٹ کا اغاز کریں کہ ہم دوسرے بندے کی رائے سے اختلاف رکھیں گے لیکن احترام کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔ اختلاف کو نفرت میں نہیں بدلنے دینگے۔ بس جنونیت کواپنے اوپر سوار ہونے سے پہلے یہی بات ذہن نشین کرنا ہے کہ سب سے پہلے انسانیت کے اصول کو اپنانا چاہئے چاہے دوسرے بندے کی رائے ہم سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے ؟؟