کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے ؟؟
کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے ؟؟
منٹو صاحب کا مشہور زمانہ جملہ آپ لوگوں نے پڑھا ہوگا یا سنا ضرور ہوگا "کون کافر کون مسلمان، کون جنتی کون جہنمی کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے"۔ منٹو صاحب کا دہائیوں پہلے لکھا گیا جملہ آج بھی ہمارے معاشرے سے تجدید عہد کا تقاضا کررہی ہے۔ ہماری معاشرتی روش آج بھی اس قید سے آزاد نہیں جس کا تذکرہ منٹو صاحب نے دہائیوں پہلے کیا تھا۔ اگر اس وقت معاشرہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تقسیم کیا گیا تھا تو اج اکیسویں صدی میں بھی انسانوں کے بنائے گئے ذات پات اور نسلی تعصب کے بوت کی پیروی کی جارہی ہے۔ جب انسان جس گھر میں آنکھ کھولتا ہے تو معاشرے کے بنائے گئے انسانیت سے بڑا ذات پات کے زنجیروں سے باندھ دیا جاتا ہیں۔ جو جتنا طاقتور ہوتا ہے اتنا ہی وہ معاشرے کے بنائے گئے تصوراتی ہتھکڑیوں کے گرفت سے آزاد ہوتا ہے اور جو بندہ ایسے ذات یا خاندان سے ہو جس پر معاشرے نے کمزور ہونے کا دھبہ لگایا ہو تو وہ نام نہاد برے خاندان کے قید میں ڈال دیا جاتا ہے۔
میں یہاں پر ایک مثال سے واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص کسی ہنرمند پیشہ ور خاندان سے تعلق رکھتا ہوں تو اکثر یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ لوگ اسے ہاتھ ملانا بھی اچھوت سمجھتے ہے۔اگر دوسرا بندا ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جو انسانوں کا تراشا گیا بت ہو جسکا لوگ معاشرے میں پوجا کرتے ہو تو ایسا خاندان معزز گردانا جاتا ہے ۔یعنی وڈیرا ہونا جاگیردار اور ملک صاحب یہ سب اس مذکورہ خاندان کے لیے سرٹیفکیٹ کے زمرے میں آتا ہے جس کی بدولت یہ جو کرسکتیں ہیں کرنے کی اجازت ہیں۔ ہمارے پرکھنے کا معیار جو بلکل عام ہوچکا ہےکہ انسان کو انسانیت پر نہیں بلکہ ان کے ذات پات پر پرکھتے ہیں۔ تو اسکا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاشرے سے احساس اور مروت ختم ہو جاتا ہے۔
مجھے برٹرینڈ رسل کا مشہور قول شدت سے یاد آرہا ہے وہ فرماتے ہیں کہ "معاشرے پسماندہ اور جاہل ہوسکتے ہیں لیکن سب سے خطرناک بات ان کی جہالت کو مقدس سمجھنا ہے".
دو ہزار انیس میں ایک ریسرچ کیا گیا ہے جس کے مطابق معاشرے کے نظام کی عدم مساوات کی وجہ سے ان لوگوں کو(ہنرمند پیشہ ور خاندان) معاشرے کے جانب سے جذباتی حمایت کم ملتی ہے۔
اگر ہم اس ریسرچ سٹڈی پر غور کرتے ہیں تو جذباتی حمایت کا مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ ان کے حالات کو سمجھنا اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا اور اگر وہ کسی مسئلے میں الجھا ہوا ہو یا حالات نے ان کو الجھایا ہوا ہو تو اسکو سپورٹ فراہم کریں نہ کہ ان کو یہ طعنہ دیں کہ آپ کو آپ کی کام کی وجہ سے اس قسم کے حالات کا سامنا ہے۔
اس کے حوالے سے ہم نے چند صاحب جوہر باہنر خاندان والوں کے طلبہ و طالبات سے ان کے زندگی، معاشرے کے نظام اور رویے پر بات چیت کی ہے اور انہوں اپنے نام کو ظاہر نہ ہونے کی شرط پر اپنے تجربات ہمارے ساتھ شئیر کئے ہیں۔
ح۔ص)کا تعلق باہنر خاندان سے ہے کہتے ہیں کہ جب بھی میں سوشل گیدرنگ میں جاتا ہوں تو ان کے توقعات مجھ سے یا میں جس کلاس سے تعلق رکھتا ہوں سے یہی ہوتی ہیں کہ مجھے اپنے کام کے لیے استعمال کریں۔ یا ہم ان کے ایک طرح کے غلام بن کر کام کریں۔
ن۔م ایک طالبہ ہے جو یونیورسٹی سے گریجویشن کررہی ہے اس کا ردعمل بھی ان ان درجنوں خواتین جیسی ہے جو گاؤں میں روزانہ کے بنیاد پر خواتین کے ساتھ میل جول کرلیتی ہیں۔ کہتی ہے کہ جب بھی ہم دوسرے خواتین کے ساتھ ملتے ہے تو ان کی باتوں سے نفرت کی بو آتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جسے ہم اس سماج کا حصہ ہی نہیں ہے۔
جب ہمارے آنگن میں ایک کلاس کے لوگوں کے ساتھ یا کمزور طبقے کے لوگوں کے ساتھ اس طرح رویہ عام ہو تو ایسے روایات کو ختم کرنے کے لئے سٹینڈ لینا ہوگا اس کا نتیجہ چاہے کربلا ہو یا اس سے کم لیکن ایک دفعہ اس کے خلاف مدینہ چھوڑنا پڑیگا۔
اور آخر میں منٹو صاحب کا جملہ دوبارا لکھ کر یادہانی کرانا چاہتا ہوں " کہ کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے"۔
Comments
Post a Comment