WOMEN EMPOWERMENT
ہم اپنی سوسائٹی کے اندر خواتین کیلئے ان کی حق باتکرتے ہیں تاکہ ان کو ان کا حق دیا جائے اور ان کو باختیار بنانےمیں ان کی مدد کی جائے اور خواتین کو وہ حقوق دیئے جائے جن کی وہ حق رکھتی ہے ۔ اور خواتین کے اندر اتنی ہمت اور حوصلہ ہونا چاہئے تاکہ وہ خود اپنے فیصلے کریں۔ معاشرے کے اندر خواتین کو عزت اور مقام دینا ان کے لیے کہتے ہیں۔women empowermentاسانیاں پیدا کرنا انکو
خواتین کی عزت و احترام کے اوپر اسلام بھی بہت واضح پیغام دیتا ہے ۔ لیکن اسکے باوجود کیا وجہ ہے کہ ہر روز کسی نہ کسی ماں سے لیکر بیٹی تک درندگی کا شکار ہو جاتی ہے اسی طرح اور بھی بہت سے مسائل ہے جن
سےخواتین ہر روز گزرتی ہے اور ان مسائل کا وا حد حل خواتین کو با اختیار بنانے میں ہی ہے۔
اگر ہم اس کے پس منظر میں چلے جائے تو 2011 میں اک سروے کے مطابق پاکستان ان چھ ممالک میں شامل ہے جو خواتین کے لئیے سب سے ذیادہ خطرناک ہے اگر میں یہاں جنسی تشددکا ذکر کا کروتو یہاں پاکستان پانچویں نمبر پر ہیے۔
اسکے علاوہ ورلڈ بینک ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں ہر تین
میں سے اک عورت اس کو ضرور رپرٹ کرلیتی ہے ۔
اسکے علاوہ میںان ممالک کا ذکر کرو جہاں خواتین پر تشدد سب سے ذیادہ ہوتا ہے اک اندازے کے مطابق انڈیا پہلا ملک ہے جہاں خواتین پر تشدد ہوتا ہے دوسرے نمبر پر افغانستان ہے تیسرے نمبر پر شام اور چھوتھےنمبر پر صومالیہ پانچویں نمبر پر سعدی عرب اور چھٹے نمبر پر پاکستان رینک کرتا ہے ۔ لیکن پر قبل غور بات یہ ہے کہ اس میں جو چار ممالک جنگ ذدہ ہیں لیکن افسوڈ کی بات یہ ہے کہ اس میں سعودی عرب بھی شامل ہے جس میں نہ کوئی جنگ ہے اور نہ اور کوئی مسئلہ ہے تو یہ سعودی عرب کے لیئے لمحہ فکریہ ہے۔
میں ایک مسئلہ ذکر کرنا چاہوںگا جو خواتین کو بااختیار بنانے میں رکاوٹ ہے وہ ہے خواتین کی شادی جلد ہونا ہی بھی سب سے بڑا سالیہ نشان ہے
کے 2017عدوشمار کے مطابق پاکستان میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی ہو جاتی ہے اور تین فیصد خواتین 15 سال سے پہلے شادی کے کر لیتی ہے۔
اخر ان تمام مسائل کا حل کیا ہیں اس کے لیئے جو ہمیں اک قدم قوم کی طرح اٹھانا ہوگا وہ ہے
1) by law and policy reform
ائین پاکستان کے اندر خواتین کو بااختیار بنانے کی بہت شقیں موجود ہیں اگر ہم 1973 کا ائین اٹھا کے دیکھ لیں تو اس میں بہت شقیں مل جاتی ہے ۔ اگر میں پچھلے حکومت کی بات کرو تو اس میں بھی 9 بل پاس ہوئیں لیکن ریزلٹ وہی پرانی رہی کچھ بھی نہیں نکلا۔ ان تمام قوانین کے لیئے ایک مخصوص عدالت کا قیام عمل میں لانا چاہیے تاکہ خواتین سے متعلق جتنے بھی کیسز ہے ان کو جلد حل کیا جائے۔
دوسرا حل یہ ہے کہ ہم ملک کے نظام کو خواتین کے لیئے اتنا اسن بنائیں جہاں وہ بے لاخوف کے جا کر اپنا کیس رپرٹ کردیں کیونکہ زلت کو وجہ سے بہت سی خواتین کیس رپورٹ نہیں کرسکتی ۔ اب خواتین میں اتنی اگاہی ہونی .چاہئے تاکہ وہ اپنے کیس میں مثبت کردار ادا کرسکے۔
Comments
Post a Comment