رسہ کشی
رسہ کشی
تحریر حامد علی جعفری
100 لفظوں کی عوامی کہانی
افس جاتے ہوئے تنویر بولے
اج کل بجلی اور گرمی ایک پیچ پر ہے
میں نے حیرانی میں دریافت کیا " ایک پیچ " کیا مطلب
بجائے اس کے کہ تنویر واضح کرتے انہوں نے مزید الجھن میں ڈال دیا
بجلی کا بل اور گھروں کے کرائے بھی پہلے سے میدان میں موجود ہے
تنویر کے باتوں سے میری الجھن مزید بڑھتی گئیں
پٹرول اور ڈیزل کے قیمتوں نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے
تعجب ہونے پر پوچھا کھیل چل رہا ہے کیا؟؟
تنویر نے کہا میدان اکھاڑا بن چکا ہے
ایک ادمی کو بے یاروں مددگاراور بےسہارا چھوڑا ہے
میں بھانپ چکا تھا اور کہا کوئی رسہ کشہ چل رہی ہے؟؟
تنویر نے میرے الجھن کچھ کم کیا اور کہا عوام اور مہنگائی کی بیچ
#inflation
#Pakistan
Comments
Post a Comment