نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی ضرورت کیوں؟؟


جب بھی ایمپاورمنٹ کا لفظ ہمارے سامنے سے گزرتا ہے تو ہمارے ذہنوں میں ایک نقشہ بنتا ہے جس میں کسی بھی شخص کا قابض ہونا ہے یا یہ ایک ویلن کی تصویر کشی کرتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے۔ لیکن اگر ہم         ایمپاورمنٹ کو گوگل میں یا دیگر دوسری ڈکشنریوں میں دیکتھے ہیں تو اسکا مطلب کچھ یو نکلتا ہے" کہ کسی بھی گروہ یا فرد کو صلاحیتوں، وسائل اور مواقع سے لیس کرنا تاکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرسکیں اور اپنے مقاصد حاصل کرسکیں"۔ ہمارے ذہنوں میں جو نقشہ بنا ہے اور    یہاں ڈیکشنری جو بتاتی ہے اس میں کتنا بڑا تضاد موجود ہے۔ یہ فرق اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے کو   ذہنی طور پر کتنا پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔                         ۔                     


اب ہم آتے ہیں کہ نوجوانوں کی ایمپاورمنٹ کا کیا مطلب ہے۔  اگر ہم اس طرح اس کی تعریف کرلیں کہ نوجوانوں کو صلاحیتوں ، مواقعوں اور وسائل سے لیس کرنا تاکہ وہ اپنے مستقبل اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرسکیں۔ تو اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ معاشرے میں ویلن ہوں گے یا یہ اپنا ایک سلطنت قائم کرلیں گے جہاں پہ یہ حکمرانی کریں گے، ہر گز ایسا نہیں ہے۔ جن قوموں نے نوجوانوں کو با اختیار بنایا وہ قومیں آج دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتیں ہیں۔ خواہ وہ تعلیم کا میدان ہو یا ٹیکنالوجی ساری دنیا اس کی پیروی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اور یہی قومیں دنیا کے لئے تقدیر لکھ رہے ہیں کہ دنیا کو کس سمت جانا ہے۔ اگر ہمارے ملک کا شمار بھی ان ممالک میں ہونا ہے تو سب سے پہلے رستہ یہی ہے کہ نوجوانوں کے سمت کا تعین صحیح ہو ان کا ڈائریکشن ان کی صلاحیتوں وسائل کے مطابق ہو نہ کہ حکمران ٹولہ اپنی ضروریات کو دیکھتے ہوئے پالیسی بنائے   جس کا آخر میں نتیجہ کچھ بھی نہ ہو۔                         ۔


اب آپ لوگ یہیں سوچ رہے ہوں گے کہ ہمارے نوجوان تو با اختیار ہے اس کی کیا ضرورت ہے؟؟  یا یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا ہمارے نوجوان بلکل بھی ایمپاور نہیں ہے ؟؟ تو بات بلکل سیدھی سی ہے کہ ہم مذکورہ تعریف کو اپنے لئے ایک پیرامیٹر تسلیم کرلیتے ہے اور آپ لوگوں کے سوالات اس پیرامیٹر میں ماپتے ہے تو جواب ہمارے پاس مثبت بلکل بھی نہیں ہوگا۔ تو یہی جواب ہمارے پاس بدقسمتی کی وہ داستان ہے جو برسوں سے ہمارے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے ۔جب بھی نوجوان با اختیار ہوتا ہے تو اس ملک خوشحالی ہوتی ہے، اور نوجوانوں کے پاس روزگار ہوتا ہے اور ملک ترقی کے وہ منازل طے کرتا ہے جس کی باقی دنیا خواب دیکھ رہی ہوتیں ہیں۔ 


جب بھی میں وطن عزیز کو خیال میں لاتا ہوں اور اس  پوائنٹ پر سوچتا ہوں تو وطن عزیز کے نوجوانوں کا مستقبل خطرات سے دو چار نظر آتا ہے۔ اگر ایسا مستقبل جو خوف کی  آندھی لئے آنگن پر دستک کے قریب ہو تو اس طوفان سے نمٹنے کے لیے ایک سیسا پلائی دیوار کی ضرورت ہے ۔ یہ دیوار محض دعوں سے نہیں بنتی کہ اگر ملک کے چلانے والوں کو ضرورت ہے تو وہ نعرہ بلند کردیں گے اگر  نہیں تو پھر اپنا مودت ختم کر کے گھر چلے جائیں تو بات ختم۔ وقت ایسا ہی بڑھتا گیا تو جس خدشات کی آندھی کا ہم تذکرہ     کررہے ہیں عنقریب پورے معاشرے کو لے ڈوبے گا۔                ح۔م                                    

Comments

Popular posts from this blog

"انتہا پسندی کے نشے میں لت معاشرہ"

کیوں نہ یہ اختیار خدا کو واپس دیا جائے ؟؟